درثمین مع فرہنگ — Page 156
سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے تار عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مُردار خوار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے راک میرا معیں تیغ کو کھینچے ہوئے اس پر جو کرتا ہے وہ وار دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازد وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور داد گر پھر شریر النقش ظالم کو کہاں جائے فرار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسماں پر دعوت حق کے لیے لاک پوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے گی مُردوں کی ناگہ زنده دار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش آنوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آتی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار تو ہر طرف ہر ملک میں ہے بت پرستی کا زوال کچھ نہیں انسان پرستی کو کوئی عزو و وقار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گو مُنہ کریں بک بک ہزار اسْمَعُوا صَوت الله ارجاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار 156