درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 146

اے ہوش و عقل والو ! یہ عبرت کا ہے مقام چالاکیاں تو بیچ ہیں ، تقوی سے ہو دیں کام جو متقی ہے اس کا خُدا خود نصیر ہے انجام فاسقوں کا عذاب سعیر ہے جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتقا جس کی یہ جڑ رہی ہے عمل اس کا سب رہا مومین ہی فتح پاتے ہیں انجام کار میں ایسا ہی پاؤ گے سخن کردگار میں کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں اب دکھا جس پر یہ فضل ہو ، یہ عنایات ، یہ اس بد عمل کی قتل سزا ہے نہ یہ کہ پیت عطا پس کس طرح خدا کو پسند آگئی یہ بہت کیا تھا ہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ نہیں ہوا کیوں ایک مُفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عجیب سے دھوکے میں آگیا 146