درثمین مع فرہنگ — Page 147
آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار بدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار بد بنا کے پھر بھی گرفتار ہو گئے یہ بھی تو ہیں نشاں جو نمودار ہو گئے تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس کھتے ہیں اب خُدا کی عنایت سے بے ہراس جس دل میں رچ گیا ہے محبت سے اس کا نام ده خود نشاں ہے نیز نشاں سارے اُس کے کام کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقه ناداں زنانہ سے اُن کے گماں میں ہم یک و یک حال ہو گئے اُن کی نظر میں کافر و دجال ہو گئے ہم مفتری بھی بن گئے اُن کی نگاہ میں بے دیں ہوئے فاد کیا حق کی راہ میں ایسے کفر پر تو خدا ہے ہماری جاں جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں 147