درثمین مع فرہنگ — Page 145
پھر یہ نہیں کہ ہو گئی ہے صرف ایک بات پاتا ہوں ہر قدم میں خُدا کے تفضلت دیکھو وہ بھیں کا شخص کرم ہیں ہے جس کا نام لڑنے میں جس نے نیند بھی اپنے پر کی حرام جس کی مدد کے واسطے لوگوں میں جوش تھا جس کا ہر ایک دشمن حق عیب پوش تھا جس کا رفیق ہو گیا ہر ظالم جس کی غوی مدد کے واسطے آئے تھے مولوی ان میں سے ایسے تھے کہ جو بڑھ بڑھ کے آتے تھے اپنا بیاں لکھانے میں کرتب دکھاتے تھے ہشیاری مستغیث بھی اپنی دکھاتا تھا سو کو خلاف واقعہ باتیں بناتا تھا وہ پیا گیا ساتھ اس کے یہ کہ نام بھی کاذب رکھا گیا اپنے بد عمل کی سزا کو کذاب نام اس کا دفاتر میں رہ گیا چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بہہ گیا 145