درثمین مع فرہنگ — Page 144
اس کا تو فرض تھا کہ وہ وعدے کو کر کے یاد گر اُس جو خود مارتا وہ گردن کذاب ره 09 گیا تھا کہ وہ خود دکھائے ہاتھ بد نہاد اتنا تو سہل تھا کہ تمھارا بنائے ہاتھ یہ بات کیا ہوئی کہ وہ تم سے الگ رہا کچھ بھی مدد نہ کی۔نہ سُنی کوئی بھی دُعا مشتری تھا اس کو تو آزاد کر دیا کام اپنی قوم کا برباد کر دیا سب جد و جهد سعی اکارت چلی گئی کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی کیا" راستی کی فتح " نہیں وعدہ خُدا گئی دیکھو تو کھول کر سخن پاک کبریا پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی یا خود تمھاری چادر تقوی ہی پھٹ گئی کیا یہ عجب نہیں ہے کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو 144