درثمین مع فرہنگ — Page 143
الزام مجھ پر قتل کا تھا۔سخت تھا یہ کام تھا ایک پادری کی پادری کی طرف سے جتنے گواہ تھے وہ تھے سب میرے برخلاف دیکھو ! یہ اتهام راک مولوی بھی تھا جو ہیں مارتا تھا لاف شخص اب تو سزا اپنی پائے گا اب بن سزائے سخت یہ بیچ کر نہ جائے گا اتنی شہادتیں ہیں کہ اب کھل گیا قصور اب قيد يا صلیب ہے ، اک بات ہے ضرور بعضوں کو بد دعا میں بھی تھا ایک انہماک اتنی دُعا کہ گھس گئی سجدے میں اُن کی ناک القصه جہد کی نہ رہی کچھ بھی انتہا راک شو تھا مگر۔ایک طرف سجده و دعا آخر خُدا نے دی مجھے اس آگ سے نجات دشمن تھے جتنے اُن کی طرف کی نہ الیفات کیسا یہ فضل اس سے نمودار ہو ہو گیا اک مفتی کا وہ بھی مدد گار ہو گیا !! 143