درثمین مع فرہنگ — Page 137
تھے چاہتے کہ مجھ کو دیکھائیں گندم کی راہ یا حالیوں سے پھانسی دلا کر ، کریں تباہ یا کم سے کم یہ ہو کہ میں زنداں میں جا پڑوں یا یہ کہ ذلتوں سے میں ہو جاؤں سر بچوں یا مخبری مخبری سے ان کی کوئی اور ہی بلا آ جائے مجھے یہ یا کوئی مقبول ہو دُعا پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدمات چاہا گیا کہ دن مرا ہو جائے مجھ پہ رات کوشش بھی وہ ہوئی کہ جہاں میں نہ ہو کبھی پھر اتفاق وہ کہ زماں میں نہ ہو کبھی مجھ کو بلاک کرنے کو سب ایک ہو گئے سمجھا گیا میں بد ، پہ وہ سب نیک ہو گئے آخر کو وہ خدا جو کریم و قدیر جو عالم القلوب ہے علیم اترا مری مدد کے لیئے کر کے عہد یاد خبیر ہے لیس ره گئے وہ سارے سیه رو و نامراد 137