درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 138

کچھ ایسا فضل حضرت رب انوری ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے آؤساں ہوئے خطا اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا یں ناک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گم نام و بے مہر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ دیکھتے ہو کیا رجوع جہاں ہوا راک مربع خواص یہی شادیاں پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے تھی ہوا اُن کی نظر میں حال مرا ناپسند ناپسند ہے میں مُفتری ہوں اُن کی نگاہ و خیال میں لعنت ہے دنیا کی خیر ہے میری موت و زوال میں مفتری پر خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اس کی جناب میں 138