درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 136

اُن کے لئے تو بس ہے خُدا کا یہی نشاں یعنی دُه فَضْل اس کے جو مجھ پر ہیں ہر زماں وہ دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو مجھکا دیا گم نام پا کے شہرۂ عالم بنا دیا جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دیکھا دیا میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اُس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی ایسے بدوں سے اُس کے ہوں ایسے معاملات کیا یہ نہیں کرامت و عادت سے بڑھ کے بات جو مُفتری ہے اس سے یہ کیوں اتحاد ہے کس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے مجھ پر ہر اک نے وار کیا اپنے رنگ میں آخر ذلیل ہو گئے انجام جنگ میں ان رکینوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا کی مراد تھی کہ میں دیکھوں رو فنا 136