درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 110

اتمام محبت نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیشیں جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چھپاتا ہے تری اک روز اسے گستاخ شامت آنے والی ہے ترے تکگروں سے اسے جاہل امرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تو نے اور چھپایا حق مگر یہ یاد رکھ اک دن ندامت آنے والی ہے خدا رسوا کرے گا تم کو۔میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منگرو ! اب یہ کرامت آنے والی ہے 110