درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 91

پھر کس طرح وہ مانیں تعلیم پاک فرقاں اُن کے تو دل کا کرہبر اور مقتدا یہی ہے جب ہو گئے ہیں نیم ، اُترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے سنگ جفا ہی ہے رکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ان کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی ہے انسویس بلکہ ہزار افسوس کہ یہ وہ باتیں ہیں جو آریہ لوگ وید کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ در حقیقت یہی تعلیم دید کی ہے ممکن ہے ہندوؤں کے بعض جوگی جو مجرد رہتے ہیں اور اندر ہی اندر نفسانی جذبات ان کو مغلوب کر لیتے ہیں انہوں نے یہ باتیں خود بنا کر دید کی طرف منسوب کر دی ہوں یا تحریف کے طور پر وید میں شامل کر دی ہوں۔کیونکہ محقق پنڈتوں نے لکھا ہے کہ ایک زمانہ دید پر وہ بھی آیا ہے کہ اس میں بڑی تعریف کی گئی ہے اور اس کے بہت سے پاک مسائل بلائے گئے ہیں۔در عقل قبول نہیں کرتی کہ وید نے ایسی تعلیم دی ہو اور نہ کوئی فطرت صحیحہ قبول کرتی ہے کہ ایک شخص اپنی پاک دامن بیوی کو بغیر اس کے کہ اس کو طلاق دے کر شرعی طور پر اس سے قطع تعلق کر سے یونہی اولاد حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے اسکو دوسرے سے تم بہتر کرا دے کیونکہ یہ تو دیوانوں کا کام ہے۔ہاں اگر کسی عورت نے طلاق حاصل کر لی ہو۔اور خاوند سے کوئی اس کا تعلق نہ رہا ہو تو اس صورت میں ایسی عورت کو جائز ہے کہ دوسرے سے نکاح کرے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ اس کی پاکدامنی پر کوئی حرف۔ورنہ ہم بلند آواز سے کہتے ہیں کہ نیوگ کا نتیجہ اچھا نہیں ہے۔جس صورت میں آریہ سماج کے لوگ ایک طرف تو عورتوں کے پردہ کے مخالف ہیں کہ مسلمانوں کی رسم ہے۔پھر دوسری طرف جبکہ ہر روز نیوگ کا پاک مسئلہ ان عورتوں کے کانوں تک پہنچتا رہتا ہے اور ان عورتوں کے دلوں میں جما ہوا ہے کہ ہم دوسرے مردوں سے بھی ہم بہتر ہو سکتی ہیں تو ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی باتوں کے بقیہ اگلے صفحے پر 91