درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 92

کہنے کو دید والے پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو اُن میں بھرا ہی ہے فطرت کے ہیں درندے مُردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خُدا یہی ہے دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اُترے دل میں اُٹھا ہی ہے لے اگر ایسے لوگ بھی ان میں ہیں جو خدا تعالے کے پاک نبیوں کو گالیاں نہیں دیتے اور صلاحیت اور شرافت رکھتے ہیں وہ ہمارے بیان سے باہر ہیں منہ سے یادر ہے کہ ہماری رائے اُن آریہ سماج والوں کی نسبت ہے جنہوں نے اپنے اشتہاروں اور رسالوں اور اخباروں کے ولید سے اپنی گندی طبیعت کا ثبوت دے دیا ہے اور ہزار ہا گا لیں خدا تعالی کے پاک نبیوں کو دی ہیں جن کی اختبار اور کتا ہیں ہمارے پاس موجود ہیں۔مگر شریف طبع لوگ اس جگہ ہماری مراد نہیں ہیں اور نہ وہ ایسے طریق کو پسند کرتے ہیں مینہ بقیہ ملا سننے سے خاص کر جب کہ ویدوں کے حوالہ سے بیان کی جاتی ہیں کسی قدرنا پاک شہوات عورتوں کی جوش ماریں گی بلکہ وہ تو دس قدیم اور بھی آگے بڑھیں گی اور جب کہ پردہ کا ایک بھی ٹوٹ گیا تو ہر ایک کر سکتا ہے کہ ان ناپاک شہوتوں کا سیلاب کہاں تک خانہ خرابی کرے گا۔چنانچہ جگن ناتھ اور بنارس اور کئی جگہ میں اس کے نمونے بھی موجود ہیں سکاش ! اس قوم میں کوئی سمجھدار پیدا ہو۔اور ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مکتی حاصل کرنے کے لئے اولاد کی ضرورت کیوں ہے ؟ کیا ایسے لوگ جیسے پنڈت دیانند تھا جس نے شادی نہیں کی اور نہ کوئی اولاد ہوئی مکتی سے محروم ہیں ؟ اور ایسی مکتی پر تو لعنت بھیجنا چاہیئے کہ اپنی عورت کو دوسرے سے تم بہتر کرا کر اور ایا فعل اس سے کرا کہ جو عام دنیا کی نظر میں زنا کی صورت میں ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بیجز اس ناپاک فعل کے اور کوئی ذریعہ اس کی سکتی کا نہیں اور یہ بھی ہم سمجھ نہیں سکتے کہ جو ہزاروں طاقتیں اور بقیہ اگلے صفحے پر 32 92