درثمین مع فرہنگ — Page 89
انقصہ آریوں کے دیدوں کا یہ خدا ہے اُن کا ہے جس پر تکیہ وہ بے نوا ہیں ہے اسے آریو ! کہو اب ایشر کے ہیں نہیں گئی جس پر ہو ناز کرتے بولو وہ کیا ہی ہے؟ دیدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چھپایا آخر کو راز بیشتہ اُس کا کھلا یہی ہے قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے الیشر کیا دین حق کے آگے زور آزما یہی ہے کچھ کم نہیں نیتوں سے یہ ہندوؤں کا رائیٹر پوچھئے تو واللہ بہت دوسرا ہی ہے ہم نے نہیں بنائیں یہ اپنے دل سے باتیں ویدوں سے اسے عزیزو ! ہم کو ملا یہی ہے فطرت ہر اک بشر کی کرتی ہے اس سے نفرت پھر آریوں کے دل میں کیونکر کہا یہی ہے 89