دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 159

۱۵۹ ٹوٹے کاموں کو بنا دے جب نگاہ فضل ہو پھر بنا کر تو ڑ دے اک دم میں کر دے تارتار تو ہی بگڑی کو بناوے توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پائے سو کرے کوئی بچار جب کوئی دل ظلمت عصیاں میں ہوئے مبتلا تیرے دن روشن نہ ہووے گو چڑھے سورج ہزار اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے جو کر دے رستگار دل جو خالی ہو گدا مشق سے وہ دل ہے کیا دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلبر یکتا قرار فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفی وجود پس کرو اس نفس کو زیر و زبر از بهر یار تلخ ہوتا ہے ثمر حجیتک کہ ہو وہ نا تمام اسطرح ایماں بھی ہے جبتک نہ ہو کامل پیار تیرے منہ کی بھوک نے دل کو کیا زیروز بر اے مرے فردوس اعلیٰ اب گرا مجھ پر شمار اے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بچا اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت نہیچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کا انحصار جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں رہ میں حق کی قوتیں اُن کی چلیں بن کر قطار چھے گئے شیطاں سجو تھے تیری الفت کے اسیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بر پائی بہار سب پیا سوں نکو تر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اس سے ہے بریاں پا گیاؤ ہ آبشار