دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 160

17۔جس کو تیری دُھن لگی آخر وہ تجھ کو جاملا جس کو بے چینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار عاشقی کی ہے علامت گریہ و دامانِ دشت کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب شرط رہ پر صبر ہے اور ترک نامِ اضطرار میں تو تیرے حکم سے آیا مگر افسوس ہے چل رہی ہے وہ ہوا جو رخنہ انداز بہار جیفہ دُنیا پہ یکسر گر گئے دُنیا کے لوگ زندگی کیا خاک اُن کی جو کہ ہیں مُردارخوار دیں کو دے کر ہاتھ دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں بن عاشق و شیدائے یار رنگ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار سو چڑھے سورج نہیں بن روئے دلبر روشنی یہ جہاں بے وصل دلبر ہے شب تاریک و تار اے کے پیار کہاں میں تو ہی ہے اک بینظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پا لیتے ہیں وہ اور دوسرے امیدوار کون ہے جسکے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اُسکے جس کا دل فگار غیر ہو کر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل وشرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار۔پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں جھک گئے وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہ ناپائیدار