دُرِّثمین اُردو — Page 158
۱۵۸ پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت سے دشمن ہوئے یہ جبہ دار تھا کوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقش جدار میں تو آیا اس جہاں میں ابن مریم کی طرح میں نہیں مامور از بہر جہاد و کارزار اگر آتا کوئی جیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بیشمار ایسے مہدی کیلئے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایکدم میں صد ہزار پر یہ تھا رحم خُداوندی کہ میں ظاہر ہوا آگ آتی گر نہ میں آتا تو پھر جاتا قرار آگ بھی پھر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا کذاب ہے اور بدشعار ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں ہاں مگر توبہ کریں باصد نیاز و انکسار یہ نہیں اک اتفاقی امرتا ہوتا علاج ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تبار وہ خدا جس نے بنایا آدمی اور دیں دیا وہ نہیں راضی کہ بے دینی ہو ان کا کاروبار بے خدا بے زہد و تقویٰ بے دیانت بے صفا بن ہے یہ دنیاءِ دُوں طاعوں کرے اس میں شکار صید طاعوں مت بنو پورے بنو تم متقی یہ جو ایماں ہے زباں کا، کچھ نہیں آتا بکار موت سے گر خود ہو بے ڈر کچھ کرو بچوں پر رحم امن کی رہ پر چلو بن کو کرو مت اختیار بن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی کوئی ہے رو بہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار ان دلوں کو خود بدل دے مرے قادر خدا تو تو رب العالمین ہے اور سب کا شہریار تیرے آگے محو یا اثبات ناممکن نہیں جوڑنا یا تو ڑنا کام تیرے اختیار