دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 90
ال حفیظ و تقدیر درت عباد نزد شال اوفتادہ ہمچو جماد نیتا و قد یہ اور بندوں کا ریت ان کے نزدیک حمامات کی طرح بے جان پڑا خود پسندان یعقل نویش اسیر تاریخ از حضرت علیم و تقدیر خود پسند اور اپنی مقفل کے امیر ہیں اور شہدائے علیم و قدیر سے بیگانہ نہیں کر خودبین موجب افتاد است حضرت اقدرش کجا یا داست وہ شخص جو خود پسند اور متکبر ہے خدائے پاک اُسے کہاں یاد وئے مشتاق سمجھ بہت و نیازی نشنیدیم عشق و کنیز انسانه عاشقوں کی عادت تو جو دنیا ہے ہم نے بھی عشق اور تکبر کو ساتھ ساتھ نہیں پایا کو پروٹی سواری این رو واست اندر آنجا جو کہ گرد هاست اگر تو اس سیدھے راستے کے سوار کی تلاش میں ہے۔تو وہاں ڈھونڈے جہاں گرواٹ رہ ہی ہے اندر آنجا بود که زور نماند خود نمائی و کبر و شور نماند اسے ایسی جگہ ڈھونڈے جہاں زور نہیں رہا نی نہیں رہی تکبر اور شور نہیں رہا فائیاں ر ا جہانیاں نرسند جانیاں را زبانیاں نرسند اس دنیا کے لوگ فانی لوگو کو نہیں پہنچ سکتے اور زبانی بھی سچے عاشقوں کو نہیں پہنچ سکتے خلق و عالم همه بشور و تراند عشق بازان بعالیم دگر احمد تنام خلق اور جہاں شور و شر میں مبتلا ہے۔لیکن عاشق ایک اور ہی عالم میں ہیں تانه کار دلت بجان برسد چون سایت از داستان برسند جب کہ یہ مال کا ملکی موت کی مشتک پہنچ جاتے تب تک اس ابر کا ایام کو یک کو کر پینے کا را