دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 89

19 بروندا لیکن نیست بخشش پیدان تا نه بخشند یافتن نتواں لیکن یہ تک ادھر سے نہ ہو اپنی سے یہ سیکھی ادا کی بخشش ہے جیت کہ دھر سے عریانی وجود کی کوشش سے پربات نہیں ملتی ال کسان را عطا شود به خدا کنه کنند خودی شوند رهام یہ مقام خدا کی طرف سے اُن لوگوں کو عطا ہوتا ہے، جو خودی کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں تدبیر علم کلام حتی برونده از فرامین او برول نشوند خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلتے ہیں اور اس کے فرمانوں سے باہر نہیں ہوتے دیگر سے رائے دہند ایں جا اور درندش ثبوت آن بنما لوگوں کو یہ مقام نہیں تمنا اگر ملتا ہے تو ثبوت پیش کر غیر را آں وفا و مہر کے ز مد خشک است غایت مفضلا غیر میں وہ وفا اور محبت کہاں ہو سکتی ہے عقلمندوں کا انتہائی مقام زہد خشک ہے حافلا نے کہ بہ خرد نازند بے خبر از حقیقت و راز اند عقلمند جو اپنی عقل پر نازاں ہیں دراصل وہ حقیقت اور دخدائی ، رازوں سے بے خبر ہیں سمجھے گورے سپید کردہ ہوں اندروں پر زحمت گونا گوں نے قبروں کی طرح اپنے ظاہر کو سفید کر رکھاہے اور باطن طرح طرح کی گندگیوں سے بھرا تو ہے مر خدا را چو سنگ داده قراره عاجزه از نطق و ساکت از گفتاره در تعالی کو ایک پتھر کی طرح سمجھ رکھا ہے۔جو بولنے سے عاجز اور گفتار سے محروم ہے آس دلائے حتی یں خدا نے کہ متی و قوم سست نزد شمال یک موجود می بوده است زهوشان بوده وہ خدا جو حتمی و قیوم ہے۔اُن کے نزدیک ایک وهمی وجود ہے