دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 91

۹۱ تا نه از ورودی مداگردی ای ستا نه قربانی آشنا گردی جب تک تو خود روی سے الگ نہ ہو۔اور جب تک تو دوست پر خدا نہ ہو۔پر نا نیائی نہ نفس خود بیروں کا کتا نہ گردی برائے او مجنوں ق چپکنے لگے جب تک اپنی نفسانیت نہ چھوڑتے اور جب تک بندا کے لیے دیوانہ نہ ہو جائے تا نه خاکت شو د لسان بعبار تی تا نه گرد و غبار تو خوں بار جب تک تیری خاک بہار کی طرح نہ ہو جائے اور جب تک تیر سے بیدار سے خون نہ تا نه خوشت چک برائے کے 5 تا نہ جانت شود ندائے کے نہ دندانے جیت تک تیرانون کسی کے لیے دیے اور جب تک تیری جان کسی پر قربان نہ ہو وں دوست کوئے جانال راه خود کن از را و مدرن و سوز نگاه We möge نہیں تھے کی طرح کوئے جانا میں رانی قیمت این قفل مرکب آن راه پیش کئی ہوش کی یہ مشو گراه فضل تو اس راستے کی سوار می نہیں ہے۔ہوش کر ہوش کر گمراہ نہ ہو صل طاعت بو د فتا ر ہوا تو کجاؤ طریق عشق کجا دفنا فرمانبرداری کی اصلی یہ ہے ک اپنی خواہی جاتی ہے پس تو ہاں اور عشق کا راستہ کہاں تو نشسته بکبر از اصرار کردہ ایجاں خدائے استکبار کو تو خدا سے، متکبر ہو کر بیٹھا ہے اور اپنے ایمان کو تکبر پر قربان کردیا۔ی چه معقل تو یں چند اش و سائے کہ کنی میری آں کیا ہے یہ تیری عقل دانش اور سمجھ کیسی ہے کہ تو اس یکتا خدا کی مہری کرتا ہے