دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 73

бро کلام خدا بروم از خود جاہ کندروئے ناشر مسارش سیاه خدا کا کلام ہر وقت بڑے جاہ و جلال کے ساتھ اس کے لیے شرم منہ کو کال کرتا رہتا ہے یہاں جانے شخصی برد و بند کو بیان کنش گردان میکند اس شخص کی مانے کے ارتقائی موت ہوگی میں کہ اس کے پو لیس کے پوشوں نے بھی اڑ سکتا دل پاک و جولان فکر و نظر در جوهر بود لازم یک دگر دل اور غور و فکر کی تیزی ہے دو باتیں لازم و ملزوم ہیں ہو جو صرف صفا در دل آویختند ماد از سواد بیول ریختند جب لو پاکیزگی دل کا موت دل کی حیات ہی مل لیتے ہیں یہ کیوں کیا اس کی دوست کی اس میں ڈالتے ہیں دا امریت نیکی است خاک خوریت داد تان تانگردی ملاک خدا نے تجھے ناک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا اور وہی تجھے روٹی دی تا کہ تو ہلاک نہ ہو جائے ہر حاجت گشت حاجت روا نشود از تریم در دست عطا تیری ضرورت کاره خود شکیل ہوا اور رحم کرکے اپنی سخاوت کے ساتھ تیرے لیے کھول دیئے ور پاداش بودش چنیں سے دہی که در علم خود را نظیرش نمی را پھر اس کی عطا کا بدلہ کیا تو ہی دے رہا ہے کہ عظیم میں خود اس کا ہمسر بنا پھرتا ہے چه خود را برابرنی با خدائے تنور به چنین نقل و ادراک دورانے وداد کیا تو خدا کے ساتھ اپنے میں برابر کھتا ہے ایسی معقل سمجھ اور رائے پر ہزار افسوس خدا ہوں ولے سایہ پستی گند به کوشیش بیاریم کردن بلند جب مندر کسی دل کو تحرز ذلت میں گراتا ہے تو پھر ہم اس کواپنی کوشش سے بند نہیں کر سکتے