دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 368
تاد جید صبوریش تاید فروش نیل عشق برباید اور جب تک اُسے نہیں دیکھ لیتا اسے مہر نہیں آتا۔عشق کا سیلاب اُسے بہائے لیے جاتا در دل عاشقان قرار کیا تو یہ کردان پور نے یاد کیا تو یہ فروش نے یاد کیا عاشقوں کے دل کو کہاں قرار ہے دوست کے منہ سے رو گردانی کسی طرح مکن ری جاناں گوش خاطر شاں مست رازے کو گفتنش نتواں تجوب کے حسن نے اُن کے دل کے کانوں میں وہ راز ناوه راز پھونک دیا ہے یا ہے جس کا اظہار نا ممکن۔کا میا ہاں وہیں جہاں ناکام نیز کال دور تر پریده نوام یہ لوگ کامیاب ہیں گر اس جہان سے مراد یہ لوگ عقلمند ہیں جو جاہل سے اڑ کر دور پہلے کئے ہیں۔از خورد و نقش خود خلاص شده سبط فیض نور خاص شده وہ اپنی خود کی اور نفسانیت سے آزاد ہو گئے اور نزار الی کے بیان کے نزول کی جگہ بن گئے نے ور خداد در خویش دل بسته باطن از غیر یار تنگ انھوں نے اپنے خدا سے دل لگا لیا۔اور اللہ سے اپنا دل توڑ لیا پاک اند وخل غیر منزل دل یاد کرده هیجان و دل منزل تعمیر کے دل سے ان کے مال کا نشاد پاک ہے اور دوست نے ان کے جان دول میں گھرتا لیا ہے۔ریده بریده شد آنگلی یہ شان ہوئے دلبر دور اور سینہ شال کا شیشہ کا چودہ ہوگیا۔دلبر کی تو خبر ان کے بیتے میں سے جھک رہی ہے۔ستی بشست جلو و بار سرزد آخر ز جیپ دل دلدار کے نقش ہستی کرد ھونا نا اور ان کے دل کے گریبان سے یار نمودار ہو گیا