دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 367

دل دیں خدو نثر نگار یکن اول چه جان نیز علم نثار یکن اس درد دغم سے اپنے دل کو زخمی کر دل تو کیا اپنی جان بھی قربان کر دے است کارت همه بیل بکذات چهل صبوری کنی از و هیهات تجھے تو ایسی خدائے بیگانہ سے ہی کام پہلے گا۔افسوس پھر تو اس خدا سے کیونکر مبر رکھا ہے بخت گردد چو زوبگردی باز دولت آید ز آمدن به نیاز جب تو خدا سے رنگائی کرنا تیری قیمت بڑھائے گی اور عاجزی کے ساتھ اس کی طرف آنے میں دولت لے گی ایسے ہیں جانے ہو کر وہ دراز ہیں ہوس با چہ انبیائی باد بن اسے وہ شخص جس نے خواہشوں کی رسی لمبی کر دی ہے تو ان لانچوں سے کیوں باز نہیں آتا دولت مرد میدم بزوال تو پریشان بیکر دولت و مال کم عمر کی دولت و سردم کمی پر ہے اور تو دور و بال کی فکر میں پریشان ہو رہا ہے خویش و قوم و قبیله بروز درعا تو بریدہ برائے شمال به خدا شتہ دار قوم اور تنبیہ سب دھوکے باز ہیں میں تونے ان کی خاطر خدا سے قطع تعین کر لیا ہے این همه به این نت آهنگ که بصلوت گشتند گاه به جنگ | ابخشیت ای به الہ کر کے ب کا ارادہ تیر سے قتل کرنے کا ہے کبھی یہ صلح کر کے مجھے قتل کرتے ہیں کبھی سینگ نیست آخرین خدا کارت نہ تو یار کسے نہ کس پارت اسی خدا سے تیرا واسطہ پڑے گا۔نہ تو تو کسی کا دوست ہے نہ کوئی تیرا دوست هر که دارد یکے دلآرامے جن پر ملش نیا بد آرامے جو شخص ایک معشوق رکھتا ہے اُسے بغیر اُس کے وصل کے آرام نہیں اوسم