دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 366

آنکه ما را شرخ نگار نمود بست امام اس خدائے دود وہ چھرا جس نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھایا۔وہ خدائے دربان کا الہام ہی تو ہے اگه داد از این دل جائے بہت گفتار آن دل آرا ہے وہ پھر میں نے دلی یقین کا جام پلایا وہ اس معشوق کی گفتار ہی تو ہے حصیل دلدار و مستی از جامش همه حاصل شده و الهامش صوب کا وصل اور اس کے جام شراب کی مستی۔سب اُس کے المام مجھ سے حاصل ہوئی ایسے بریده امید باز خدا توبه کن از فساد خود بازه آ سے وہ شخص میں نے اپنی امید میں خدا سے توڑتی ہیں تو یہ کر اور اپنے اس فساد سے باز آجا دے چند است آخرش کار با خداوند است با اس ذلیل دنیا کا کا میں تو تھوڑی سی دیر کی چیز ہے آخر کار خدا سے ہی واسطہ پڑتا ہے ترک کن کین و کبرو تاز و دلال تا نه کارت کنند بیوٹی ضلال تانه دشمنی یکبر اور ناز نخرہ کو ترک کردے۔تاکہ تیرا خاتمہ گرا ہی پر نہ ہو چول ازین دام گر بند ی بار باز نائی دورین بلاد و دیار جب توان شکار گاہ سےاپنا بوریا بستر باندہ لے گا تو پھر تو ان سکوں اور شہروں میں واپس نہیں آئے گا۔اسے شہر عظیم اسے نہیں بے خبر بخورہ غیر دیں کہ نجانت معلق است بدیں ارے دین سے بے خبر انسان۔دین کا غم کھا۔کیونکہ میری نجات دہی سے ہی وابستہ ہے۔این تقاتل مکن از ی غیر خویش که تا کار مشکل است به بیش دیکھا وہ اس غم نے غفلت کرے اگر تجھے مشکل کام در پیش ہے کہ 1