دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 362

۳۲ کو یقین نیست خدایش انسان میں چه ابعث کرم پیش هر آن ان کی ایم بی بی کے لیے نہیں ہے کیا بات ہے کہ وہ ہر گھڑی اسی کی روش میں رہتا ہے چه در فطرت بشر مکتوم چون بماند بشر ازو محروم جو کچھ انسان کی فطرت میں مخفی ہے انسان اس سے کسی طرح محروم رہ سکتا ہے رفین است چون روال هردم ق تا رسانید تا یقین اتم جب ہر وقت فیضان السی کا سمند ر جاری ہے تا کہ تھا تجھے کامل یقین تک پہنچائے پس اگر مالتی مظنونی تو نہ عاقل که سخت مجنونی پر بھی اگر تو علی پر قانع ہے تو تو عقلمند نہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے دل بید از برائے رفع حجاب جز ملے کہاں شہد است مچھر کلاب نبہداز ول تو چاہوں کے دور کرنے کے لیے بیقرار رہتا ہے سوائے ایسے دل کے جو کتوں کی مانند ہوگیا ہے۔الا به من گفت خدا خیر و در نفس چو تعطش با کیا خدا نے انکا تبصرون نہیں فرمایا۔اٹھے اور اپنے اندر پیاس کو تلاش کر همت دول بدار چون دوتان رو بجو یار را چنچو مجنونان ولیل لوگوں کی طرح ہمت پست نہ رکھا جا اور خدا کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈ ر کر ہو یا ئے اوست یافته است نافت آن شود که سرنتافته است جو اس کا طالب ہے اُس نے اُسے پا لیا وہ منہ نورانی ہو گیا میں نے اس سے سر نہ پھیلا آخرین خدا براں مردے کو برین در شد است چون گردے خدا کی طرف سے اُس جوانمرد پیر آفرینی ہو۔جو اس دروازہ پر خاک کی طرح آپڑا ے میں کیا تم فری میں کرو گے ؟