دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 363

۳۹۳ از پینے وصل ہل مین پاک اوفتاده سر نیاز بخاک آن اس پاک نہین کے میل کی خاطر وہ گرا اور عاجوسی سے اپنا سر خاک پر رکھ دیا هر زمان با خدا ئے کیمیا کے بر زمین و بر آسماں جائے وقت ضائے واحد کے ساتھ زمین اور آسمان پر قرار پانا ذره ذره شهدا شده نہ زمیں دل پریدہ بوئے عرش بریں اس کا ختہ خرہ زمین سے بے تعلق ہو گیا اور اس کا دل عرش بریں کی جانب فوٹو گیا بر روح او تجلیات خدا در دلش جلوه گاه ذات خدا در اُس کے چہرہ پر خدا کی تھیلی ہے اور اس کا دل ذات باری کا جلوہ گاہ ہے۔این همه حالت از خدا آید چون یقین از کلامش افزاید از ی سی الت خدا کی مہربانی سے ہی آتی ہے جب کلام الہی کی وجہ سے بندہ کالینین زیادہ ہو جاتا ہے ہی جب تو نہ فہمی ہنوز این سخنم در دولت چون فروشوم چه کنم در گہ ابھی میری بات کو میں سمجھتا ہیں تیرے دل میں کیونکر گھس جاؤں ؟ بتا کیا کروں اسے دریا کہ دل نورد گداخت دور و ما را مخاطبی نه شناخت افسوس کہ ہمارا دل درد کے ارے گوانہ ہوگیا۔مگر ہمارے درد کو مخاطب نے نہ پہچانا اسے خود کوئے یار زود بر آن که دل آدرو از شب یلدا سے ایک کے چہرہ کے سورج جلدی باہر کی کہ میری بات کی وجہ سے کہا ر دل آزردہ ہوگیا ہے عمر ما هم رسید تا بکتار بکارم در آئی۔اسے دلدار ہماری عمر بھی ختم ہونے کو آگئی۔اسے دلدار میری گود میں آجار