دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 361

این جا نے عجیب فول ست کاندوم دنیا کان و صد نیات مکالمت است ایک کاتدا تیرے دل میں ہے کہ اس سے قسم قسم کی تاریک روئیدگی پیدا ہو گئی ہے۔شکست دشت و کیر دھواں ہوں بجھا بی بی غفلت اسے نادران کیوں جایی زیرنظامی تیری رات ہے اور جنگل اور دورہ حروں کا خوف اسے تا دان تو کیونکر تو اس شغل میں پڑا ہے تیز و بر حال خود نگاه بکن خطرده به مین و آه یکن اُٹھا اور اپنے حال پر نظر ڈال۔راستے کے خطرہ کو دیکھ اور افسوس کر نیز و از نفس خود سر سی نشان ) که چه خواهد مراتب عرفان اٹھ اور اپنے نفس سے ہی دریافت کرلے کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے مارچ ناگتا ہے۔اتیں ندامت و آب حیات یا پسندید ورطۂ شمار آیا اس کے نزدیک یقین ہی آپ حیات ہے یا وہ شکوک وشبہات کے بھنور کو پسند کرتا ہے گردات سے پہد برائے یقیں نجل چول کرو آن کریم میں تند چل ایران یقین کے لیے دوائی تیار ہے تو پھر اس کریم بود دگار خانے مجھ سے ملک کیوں کر رکھا ہے هرچه در شرارت او در خفته است بازان مردم جهان گریخته است جو چیز خود اس نے تیری فطرت میں ڈال دی ہے پھر اس ارادہ سے اس نے گرین کہوں کیا این میان شد که آن کریم و تیم دارد مرتضائے این تقویم تی۔اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کریم مریم منا نے انسانی فطرت کا ہر تقاضا پیدا کر دیا ہے اونان و قصر همت و گشت ناقل برای نفرات او ز أدر پھر انسان ہی اپنی بہت کی کمی سے نفاس کے عطا کر وہ نور نظرت سے فاضل ہو گیا ہے