دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 267
کیر دل سے تعلق تو روش شب و تحقیق است که در خادم دوستی باشد جر کاری مخلوق کی خاطرون رات بچین رہے یہ ثابت شدہ بات ہے کہ وہی لوگوں کا خادم ہوا کرتا ہے۔نہیں جانش نیاد دیں نجا ببرد اگر ز قمت ما ظل شال مجعد باشند اگر ماخل حادثات کی انگری دین کی بنیاد کو ہارے اگر ہمارے مذہب سے ہی لوگوں کا سایہ لگ جائے انی بود که وسال صدی تمام شود امید آنکه بدین تاپ خدا باشد ہی ہے کرجب صدی کے سا ختم ہوتے ہیں ایسا نا ہوتا ہے جو دن کیسے اس کا نام جانا ہے ی شود زنیم که من یہاں مردم که او مجد و این دین در بنا باشد سے یہ نوشتہر کی لی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجدد اور راہ نما ہے لوائے ما چنیہ ہر سعید خواهد بود برائے فتح نمایاں نام ما باشد ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہو گا۔اور کھلی کھلی فتح کا سہرہ ہمارے نام پہ ہوگا حب مدار گرفتن سوئے ما بدوند کہ ہر کیا کہ منی سے بود گر باشد اگر مخلوقات ہماری رات دو شکر آئے تو تجب نہ کرکہ جہاں دولتمند ہوتا ہے وہاں فقیر جمع ہو جاتے ہیں گلے کی نئے خیا لا کے خواب دید بیبار ناست اگر قیمت رسا باشد ھیں جو کبھی خدا کا منہ نہیں دیکھے گا ہمارے باغ میں ہے اور تیری قسمت یاور ہو منم مسیح بیانگ بلند سے گویم منم خلیفہ شا ہے کہ برسا باشد چھوٹ بند آواز سے کہتا ہوں کہ میں ہی مسیح ہوں اور میں ہی اس پادشاہ کا تخلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے۔معتقد است کرنے ہیں اوریز میں ہزار ہادان جاں بہ درہم خدا باشد۔ار ہو چکی ہے ک کی ان سے دین پر بند دل جان و دل میری راہ میں قربان ہوں اگے