دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 266

چہ جائے کہ کرایا پناه بر تیراندن تعطیل نشان مہ عمامہ وقتا باشند موقعہ ہے کہ وہ تو سانسان کی جائے نہا ہیں ہنسی کی طفیل سب کی عورتیں محفوظ ہیں اگنی این شی ایک سے جدا بشوی متاع دایا کیا تو تو جدا باشد اگر توان کی پناہ کی جگہ سے ایک لحظہ بھی پیدا ہو توایمان کی پونچی اور دولت تجھ سے جدا ہوجائے گی ساست زیر میر صادقان مخلص را که تار ها سر تو میکه در بلا باشند ان تخلص راستیا نوں کا سر تیر کے نیچے رہتا ہے تا کہ اس قوم کا سر بچ جائے وصیت میں ہوں یل شان بر باد است و سرو کریم این نشان ده میره سر رضا باشد ان کا اصول محض ہمدردی محبت اور شفقت ہے اور ان کا طریقہ عالم ہی اور رضا کی طلب ہے۔نا جان گرامی فدائے ہوں دل باد کو مست محور بابائے کبریا باشد ہزاروں قیمتی جانیں اس ایپ پر قران و و و او را برای کی ان میں سر اور بے خود کہا ہے ه کنج خلوت پاکان اگر گذر کنی بیان شود که چه نور ولا سرایاند پاک لوگوں کی خلوت میں اگر تیرا گذر ہو تو تجھے معلوم ہو کہ واں کیسے کیسے انوار رستے ہیں دولت در جهان سر فرد نے آرمند عشق یابد دل نداریشان دو تا باشد دو نوں ماں کی دولت کی طرف بھی یہ لوگ وہ نہیں کرتے ان کا درد مند دل محجوب کے عشق میں چور رہتا ہے۔مناز با گلهاسبرو رفته پشمین که زیر دلق مع غریب با باشد یکا اور روانی و قه یرانانه ن که ناشی گری کے پیچھے بہت سے قریب ہوتے ہیں ز ان مروند ندوست بانش آن موضتے آید که سوخت ان یہاں نہ نے بدنی باشد وہی مرد ایسے دست وباز کے ساتھ خدمت کر سکتا ہے جس کے دل و جلی ہدایت کے لیے پر سوار ہوں