دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 238

از میر دندان مردان کار نیست لیکن این ده رامه اصل باز نیست مجھے داناؤں کی عقلمندی سے انکار نہیں ہے کر یہ پیار کے وصل کا راستہ انہیں تانه باشد عشق و سو داؤ جنوں جلوہ ننماید نگاہ ہے جنگوں ب یک عشق اور سودا اور جنون نہ ہو تب تک وہ بے مثال محجوب اپنا جلوہ نہیں دکھاتا چون همان است سے وان همان استنال تو یہ مجرم ہر کے سامی گزینید لا ترم چونکہ وہ ملات دال مجوب پوشیدہ ہے اور مریض کوئ نہ کوئی اتے اس سے ملنے کے لیے اختیار کر تا ہے یں ان رہے کو عاقلوں بگردیده اند بی تکلف روئے تھی پوشیده اند ازی لیکن تعقل والوں۔عقل الوں نے بجودات اختیار کیا ہے ترانوں نے پختلف خدا کے چہرہ کو اور بھی چھپا دیا ہے۔اور پرده را به پرده با افراخته مسطبه نزدیک دور انداخته پہلے پردوں پر اور پردے ڈال دئے مقصد نزدیک تھا مگر اُسے اور دور کر دیا ا که با و بیدار او روسا نیمی از رو عشق و فتایش یافتیم ہم لوگ جنوں نے اس کے دیدار سے اپنا روایت کی ہے ہم نے تو اسے متن اصرفا کے راست سے پایا ہے ترک خود کر دیلم پسر آن خدا از فنائے ما پدید آمد بقا بق ظاہر لگتی اس خدا کے لیے جب ہم نے اپنی خودی ترک کردی تو جاری تھا کے نتیجہ میں اندین به دردسر بسیار نیست جان بخواهد دادنش دشوار نیست جان س راستے میں زیادہ کلیف نشانی نہیں بستی معرت جان مانتا ہے اور اس کا دنیا مشکل نہیں ہے۔کرتہ اور خانہ سے مراد فضل وجود صد فضولی کر دے بے سود بورو وشو اور وہ اپنے شمال کرم سے مجھے دیا اور میں کتنی ہی کوششیں کرتا اس سے فائدہ انہیں