دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 239

۲۳۹ انشگاهی این گدا را شاد کرد قصہ ہائے راہ یا کوتاه کردی را اس نے ایک نظر سے اس فقیر کو بادشاہ بنا دیا اور ہمارے لیے راستہ کو مختصر کردیا مراه خود برمن کشود آلن دستان و دانش از انسان کرگل ملایا جنان یں جوں نے خود اپنا دست میرے لیے کھولا ہیں یہ بات اس طرح جانتا ہوں جیسے ساختمان پھول کو هرکه در هر که در عهدم زمین ماند جدا می کند بر نفس خود جور و جفا ہو میرے زمانہ میں مجھ سے بیدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے ر و نور داستان شد سینه ام شد ز دیتے منتقل آئینہ ام محبوب کے ٹور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا مستقل رہی کے ہاتھ نے کیا اسی یکرم شد پیگیر یا به اول کار من شد کار ولدا به انال شد به انزال میرا وجود اُس یار ازلی کا وجود بن گیا اور میرا کام اُس دلدارہ تحریم یار دن اور کا کام ہوگیا ینکه جانم شد شمال در بیار مین یوئے یارہ آمد از ین گلوتار من یری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لیے یار کی خوشبو میرے گزار سے آنے لگی تور بی داریم دید چادر از گریبانم بر آمد دلبری ہماری چادر کے اندر خلا کا نور ہے۔وہ دلیر میرے گریبان میں سے ملا احمر کر زبان نام مو است آخرین مامے میں جاری من است واحد آخر وہاں میرا نام ہے اور میرا نام بھی ٹوٹنا کے لیے، ہتری جام ہے طالب راه خدا به امژده باد بخش خدا نمود این وقت مراد مامہ خدا کے طالب کو خوشخبری جو کہ اسے خدا نے کامیابی کا دانہ لو کھانا