دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 185
Ind ا کر خود آب درختان بیت را مگر وے بند ہوجانے پر صلوات را حبت کے دوروں کواپنی اشکموں کے پانی سے سیراب گرم کر ایک دن وہ تجھے تیری پھل دیں الاسلام در این حقیقت با همی دارد کجا باشه تهران هم ایران صورت را اما کا اپنے ای ایس سی میں رکھا ہے ان مہینوں کو چاند کی رویوں کی کیا خبر رکھتی ہے اس ینی بینی روز حسرت را کا ایک رات کو ان کھاؤں مگرآج تو نے نہیں دکھے گا تو ایک اور حسرت اون رکھے گا یا خوردم مرن باریک بد پر ہی پال نے بندے سے صحت را رگیری شان تیری انکھوں سے پوشیدہ ہے تو بھی خوش ده که با پریز بیمار تندرستیکی کامت نہیں تمرین شامل نور رانت میشی در نهادی نام کا فرا برم مشاق مت افرا را تجھے معرفت کی آنکھ اور نور عرقان نہیں دیا گیا۔اس لیے تو نے ماشتقال اسلام ک کیا از آستان مصطفے سے بار بگریو نے اپنی جائے گی ای یاد دولت را ے یار یار زن ہم درگاہ مصطفوی سے کمال بھنگ کرنا یہ عورت اور دولت نہیں پا بداند که رو قطع نمی کرد ای تو می اندازد تحت الحمام مشیر کو خلوت را احمد نہ کہ اس قوم نے تو ہی مجھے قلم تعلی کلی اور تانے بانی اور کریم سے خلوت میسر کردی و شاید بر دیداری رو با ناز و ابر در اکرار ماجت را ان چوں کے لکھنے سے میں کس قدر کیف پاتاتھا مجھےاپنے دلبر بنتا ہے اس نے پھرمجھے جنت عطا کی چینی ازان کرب کے بادار میدارم گرند بست در دست گردان قیمت ) تو اس قرب کی ہے جومجھے داری سے حاصل ہے کیوں جاتا ہے اگرتیرے عقد میں زندہ ہے ہرقسم کے موتی کو بندکر د سے