دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 186
JAN کا ہاں نفرت پانی کے دست ما این پایش کے دستان یا بکه سوند داشت بوت را است این کیسے ان میں آتا اس کے بال اسی کو موت ملتی ہے جو نہ اس وقت جلا دیتا ہے رانی و ملنے والا را خالی شد کره زمین در گویش ایر که خودت را رمایا کیا چاہتا ہے تعلیم کی شی ترک کر کے اس کے کوچہ میں سیر کرو توت کو کتے نہیں دیتے مندال و تنہانے دیا اگر داری کے تواین کاری و باستان شرت اگر خدا کا لبگار ہے تو نہیں نعمتوں سے دل نہ لگارہ میرا جنوب ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے پیش کے مالک ہوں مناظره باید که او بر شود پیدا کجایند دی ناپاک سے پاک حضرت را پانی کا مقاتلو ا ہے تاکہ اس سے متلی پیا ہو اور دل خدا کے پاک چہرہ کو کہاں دیکھ سکتا ہے نے ایرا کے دعوائے ہیں دنیا تنہا بیر کرسی کی اور بین دست را جھے نہ بھر دیا کی علت درکار نہیں ہمارے لیے کسی نہ جھا کہ ہم تو قدمت پر مامور ہیں ر خالی جہاں خواہدا ان نمی شود ربات خلات منکر نے اہم برام از دولت را سب لوگ اور سارا جہاں اپنے لیے عورت چاہتا ہے بر خلاف اس سے ہمیں یار کی راہ میں ذلت مانگی ہوں میشود و این امامان و عافیت نخواند چانتا ہیں سارا کر نے وا مصیبت را و این دیگری زیاد میں ہی عافیت کے خواستگار میںمیرے سرکو کیا ہوا کہ مصیبت کا و شدت سے کہ اری را که م بینی بادل نظر آید رشته درخور د راهنمای ات را جھے تیر مردیکھتا ہوں رخ جاناں ہی نظر آتا ہے ان میں بھی وہی چمکتا ہے اور چاند یں بھی دوی دامت دکھاتا ہے۔این غربت داریم این از یک دانستم که بادر فلاش باشد دل بین نوبت را یا اس دن سے رات اور جو کام نہیں ہل سے میں نے جانا اس کے حضور می ورنی سکیسی دل کی عورت ہے۔میں روز ط یہ مضوع الہامی ہے کا یہ مصریح الہامی ہے