دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 184

Imp کو کئی غیر قومی خود کار کردن سوداگر مردی جھوٹ سے راہ اسلام ادا کر ال کم می خرید می دارد زه کار نیست کار کیست موی خود گرد در استان جب قیامت کی سی کی با حقیقت پرسی بی وای دی یا ان کا ہو جائے گا کہ ان کا ہے اور کانی روسی گو هندی بر کن تا این خورد تایان و در چنین شما این ابیاری روانہ ہے دیا اور پلے اپنی جان کی مرکز ایمان کا دعوی کچھ چیز نہیں تو ایمان کا چر کیفیت بازی چند استراکنی در پایان خود مارا بکفر با گذار کے ناز کرے گا ورکرز کس تنم نے روس حکایت کن شان ام تار و دین مجھ سے یکم شوریده وار مجھ سے دو جہت کا ذکر نہ مدارج کا میں توجمہ کے دین کے ہمیں دیوانوں کی سی زندگی بسر کرتا ہوں لان دیگر یاد آید مردی مرا این خاموش شود پیش روی پرده ام اس میت کی ہے ان کی تم یاد آتی ہے تو دونوں جہان کی خوشیاں اور تم مجھے بالکل بھول جاتے ہیں ر انگیز کمالات اسلام صفحه ۴ ۲ تا ۱۳۹۶ مطیور ۶۸۹۳ اینکه قلم پشت نیز ضال کیوں نترسی از خدائے ذوالجلال از ہے اور شخص کہ میں تیری نظر میں دجال اور گاہ ہوں تو خدائے ذو الجلال سے کیوں نہیں ڈرتا ہوتے را نام کا فرمے نبی کا فرم گر مومنی با این بنیال میں کام کا رکھتا ہے اگریہ اس عقیدہ کے بار جودو کرسی ہے تو واقعی میں کافر ہوں ه آئینہ کمالات اسلام ص ۳۲)