دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 167
144 بردم ملک شادت صدقم ہے دہر نزین گشت متشکرم اسان ہروقت میری پانی کی گوری دیتا ہے پھر مجھے اس بات کا کیا غم کہ اہل زمیں مجھے نہیں مانتے داشته و کشتی تو تم نہ کردگار ہے دولت که دور بماند دلگرم نی میں اپنے پروردگارکی خوف نوح کی کشی کی مادہ ہوں قیمت ہے دو ایسے ان سے دو راستے یں آنے کو این آخرزمان نوشت از بی چاره اش بخدا شهر کو شرم پرنگ میں نے اس آخری زاد کا درس ملادیا ہے۔خدا کی قسم میں اس کے علاج کے لیے نہر کوڑے ہوں۔من یتیم رسول دیا اورده ام کتاب ابان مهم استمر و مداد می گندم میں ہوئی نہیں ہوں نہ کتاب نہیں لایا ہوں۔ہاں علم ہوں اور خدا کی طرف سے ڈھانے والا سول یاب برای نظری کن بلطف وفضل یه دست دوست تو در لیست میاوردم کن ے میرے میری گری داری کو کچھ کریات کو کی ایک نظر کو تیری جیت کے بلھے کے سر اور کون میرامایا ہے جانم فدا شود بره دین مصطفی این است کا مسول اگر آمد میر حسین است میری جان مصطفے کے دین کی ماہ میں خدا ہو یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میسر آجائے ران از او اهم حصہ اول صفحه ۱۷۵ تا ۱۷۸ مطبوعه ۶۸۹۱ اسے خدا جافر یہ اسرارت تھا میاں سامے دہی قصر و نیکا تھا میری جان تیرے بھیدوں پر قربان کہ تو آن پڑھوں کو نم اور میں رس بخشتا ہے۔در جهانت همچو من امتی کجاست در جهات امر انشود ماست تیری اس دنیا میں میرے جیسا اُمتی کہاں ہے میرا تو نشود نا ہی جماعتوں کے درمیان ہوا ہے