دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 165

حسرت میں گرد به میزان ما امید وقتی به بینیم که این خاک گندم انسیس مریدوں نے مجھے پہچانا یہ مجھے اس وقت جائیں گے جب میں اس دنیا سے گزر جاؤں گا نون شد استان می خور شان این است آن که مربو هم دین سرم ران در یکی دو معمول نہ کیا ہے کیا اب میری یہ یہ ہے کہ کام میں میرا اک ترین ہوجات ری را راه می آید نه ورد قومی ادب نجات خوشی ایک روز از شرم مجھے اس شور شر کے زمار تیار تیم مردان کسی نشان میشود کامرونه تر شد است ازین در این ترمی است کے ان سے ان کی پستی دھو ڈال کے اس قسم کے بارے آج میں بستر دریاب جا کہ آب نه بر تو دهیم احباب جو که جز تو نان است دیگرم ا میری مارکر کی کر کریں نے تیرے لیے تو ہانے میں میری فرمائش کی کثیر ہے سو اسے کوئی نہیں رہا تاریکی عموم باخر نے رسد این شب گر تمام شود روز محترم موں کی تاب کی ختم ہونے میں نہیں آتی۔یہ اندھیری رات تو شاید مشتر یک لمبی چلی جائے ابھی مان شد ستاد ایران استان یا همان کسی که گرفتند چنبر من ان بعد ان قوم کے تم سے میلوں بچے پڑھتے ہی ان ہو گیا۔نیز گمراہ عالموں کی وجہ سے ہوں میں گرانش که کسی ولی میدان سے ہر ظالم وفقیہ شد ہے تجھے چاکرم ک مالامال کیا ا ا ا ا ا ن ہوتی نہ ہوا اور یہ میرے آنے والوں کی طرح ہوتا بیرینگ سے کش اثر این نظم میر ہے سو یں کہاں بی کلام مواترم میری یہ باتیں تھر یک پرہاتھ کرتی ہیں گر سے لوگ میرے کپتاثیر کلام سے بے نیب میں یہ