دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 164
انائے روز گار مانند از من من دور خود نفت و چشمان شیر دنیام رنگ میرے بھید کو نہیں جانتے ہی نے اپنے نور کو چھ گاڑھوں کی سکھوں سے چھپارکھا باز هم سر آن پسند داسی نیست و سمت آن در نظرش پیچ محترم قیمت آنکه ری یا چور را راه بی پسند کی دیکھی نہیں شخصی و قسمت ہے کراچی کو موت دیتا ہے۔میری راہ چھوڑ کر بیوی برق می خوریم یا به حال دوست بروم نہیں یار علی رغم منکریم ہم تو بر گرای دوست سیل کو چاہتے ہیں ہمیں روم اپنے سر کے خلاف پن یار کا کام سمیت مول یو ید بهشت بر دل پرسوز من وزد با صدقت لطیف در دو و محمر م ) جنت کی وہی میرے موزول چینی ی ی ی ی ی ی ی یک دارای یک روی تم کیا یا ان میں پیارا ہے بی سے حاصلان رسانم زیان به من من هر زمان از نافوره یادش معطر من حاسل کی جدید مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتی کیونکہ میں برات یاد خدا کے ناف سے محور رہا ہوں کام نہ قرب یا جائے سید است کا نجاز قم و دانش اعتیاد بر تروم و یار کے قرب کی وجہ سے میرا مال میں متک پہنچ گیا ہے کہمیں غیروں کی کل قسم سے بہت بالاتر ہو گیا تھا یم زلف یار برات خرید است از فضل آن عیب بهشت سالوم یرانی یا یکی رانی سے جنت میں نقل ہوگیا ہے اس دوست کی حمایت میرے ہاتھ میں جام ہوا ہے بوش بیانیش که بوقت دعا بود نال گونه ای نشنیده است مادرم۔اس کی قبولیت کا ہوش جو میری دعا کے وقت ظاہر ہوتا ہے آپی گریہ وزاری میری ماں نے بھی نہیں ملی سرسوی و ربات شرخ آن یار بگرم دیگرے کا ست که آید باورم۔میں رات اور پر اب اس بار کا چہروہ کہتا ہوں۔پھر اور کون ہے جومیرے خیال میں آئے