دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 163

۱۹۴ تکریم پیام سروش والے حتی از من خطا میں کو خط در تو گرم اسے وہ بورفرشتہ کے پیام اور خدا کی آوانہ کا شکر ہے۔غلطی مجھ میں نہیں بلک تھے میں ہے جام گداخت از ظهر امانت اے این این طرف تر ک من بی گمان تو کافرم ے یہی میری جان تیرے ایران کے غم میں گھل میر ات یہ ہے کہ تیرے خیال میں نہیں کافر میں خوابی که رشت شود و حال مسبق ما رو تندی خواه از ان ذات و الكرم می با خواه ازان گر تو چاہتاہے کہ باری بھائی کی حقیقت جو پریشان ہو جائے تو اسی ایران ذات سے دل کی روشستی بانک گوش داره جات تکفیر کس کجاست سری بہت جانتہائے عنایات دارم مر جاتا داریم دلم یرانیاں کسی کو کاربنانے کی میت کی ے ہیں تو اپنے جوب کی شانتیوں کے جام سے سرشار ہوں ر من شمتان خبرے ہوں شود مرا کاندر خیال دست پنجاب خوش ایریم دشمنوں کے طعن کا مجھ پر کیا اثر ہوسکتا ہے۔میں تو دوست کے تصور میں درست ہوں من مینو موجی فضل نے که با من است انجام دوست بھی تنفسی روح پر دودم میں تو اس خدا کی دی کے سارے پیتا ہوں میرے ساتھ ے اس کا اسلام میرے لیے دنیا میں اس کی طرح وحی این نخست دی ام مدارات با نوایش دیگر خبر پرس این تیره کشوریم میں نے تواپنے دوست کے گرمی ڈیر ڈال دیا ہے میں تو اس اندھیر سے جہان کے متعلق مجھ سے کچھ نہ پوچھ مقشقش بنائی بود دل من دور شد است ترش است در رو دیں میرا نورم۔ی شیریں وصل ہوگیا ہے اور اس کی محبت را میدین میں میرے لیے کہتا تھا سو ہو ہی گئی ہے با محبت می و گوناش گرشد سے بیان ان کے ہاں فی الف سے بریلی معدوم اگرمیری اوراس کی جس کا انتظام ہو جاتا۔تربیت سی خلقت میرے دروازہ پر اپنی جانیں قربان کر دیتی