درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 233
24) سینه می باید تهی از غیر یار دل ہمی باید پر از یاد نگار dil hame baayad por az yaade negaar seene mi baayad tehi az ghaire yaar یار کے سوا ہر چیز سے سینہ خالی ہونا چاہئے اور دل محبوب کی یاد سے بھرا رہنا چاہیے جاں ہمی باید براه او فدا سر همی باید به پائے او شار sar hami baayad bepaa'ey oo nesaar jaaN hami baayad baraahe oo fedaa جان اس کی راہ میں قربان ہونی چاہئے اور سر اس کے قدموں میں نثار ہونا چاہیے پیچ دانی چیست دین عاشقاں گوئیمت گر بشنوی عشاق وار goo'yamat gar beshnawi 'osh-shaaq waar heech daani ? cheest deene 'aasheqaaN کیا تجھے معلوم ہے کہ عاشقوں کا دین کیا ہوتا ہے؟ میں تجھے بتا تا ہوں اگر تو عاشقوں کی طرح سنے از همه عالم فروبستن نظر لوح دل شستن از غیر دوستدار lauhe dil shostan ze ghaire doostdaar az hame 'aalam feroobastan nazar وہ یہ ہے کہ سارے جہاں کی طرف سے آنکھ بند کر لینا اور دوست کے سوا ہر چیز سے دل کی سختی کو دھو ڈالنا سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 ص 258) 227