درثمین فارسی کے محاسن — Page 29
۲۹ بیان کرتے ہیں لیکن عملی ثبوت نمائب - آپ خود فرماتے ہیں : - سخن از فقر بدندی ہے تواں گفتن ہے ولے علامت مردان رو ، ، صفایات دور ثمین (۳) پس اس زمانہ میں وہ راہ صفا پر گامزن ہونے والی ہستی آپ کے سوا اور کون ہوسکتی ہے ، جو اسلام کی برکات کے حاصل ہونے کا زندہ ثبوت پیش کر سکے۔چنانچہ حضرت اقدس فرماتے ہیں؟ ایکہ کوئی گر دعا ہا را اثر بود کجاست با سوئے من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب ہے دورتمین ها کرامت گرچہ بے نام و نشان است : بیا بنگر از غلمان مشهد که پھر فرمایا : نیز فرمایا : ور ثمین ) اسے مزوّر گر بیائی سو سے ما ! : و ز وفا رخت انگنی در کوئے ما و زسر صدق و ثبات و غم خوری روزگاری در حضور ما بری عالمے بیٹی نہ ربانی نشاں ہے سوئے رحمان خلق و عالم راکشان له در مشین ۱۳۳۲) باتیں بنانے کیلئے توفر سے میٹر چور تک کی بیان کی جاسکتی ہیں لیکن س راستہ کے جوانمردوں کی نشان رو صف کو اختیار کرتا ہے ہے ے۔اسے دو شخص جو کہتا ہے۔کہ اگر دعاؤں میں اثر ہے تو بتاؤ کہاں ہے؟ تومیری طرف دور تا کریں تجھے سوچ کی طرح و اثردکھاؤوں نے تے :۔اگر چہ اب کر امت مفقود ہو چکی ہے پھر بھی تو اور اسےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے ؟ ے۔ر سکے :۔اسے کذاب اگر تو ہماری طرف آئے۔اور وفاداری کے ساتھ سما سے کوچہ ہی ڈیرے ڈال دے۔اور اخلاص ثابت قدمی اور دستوری کیساتھ کچھ ہمارے پاس گذار تو تھے خالی نشانوں کا ایک الم نظرآئیگا جودنیا ان کا سامان خدا کی طرف کھینچے لئے جار ہے ؟