درثمین فارسی کے محاسن — Page 28
۲۸ انہی کے امکان کا انکار ہے۔اور یہ انکار نبوت کا دروازہ بند کرنے کی کوشش کا لازمی نتیجہ ہے۔کیونکہ وحی و الہام کا دروازہ بند ہوئے بغیر انبیاء اور مامورین انہی کی آمد کا دروازہ پوری طرح بند نہیں ہوتا۔لہذا اس زمانہ کے بعض متکلمین نے بزعم خود وحی و الہام کے امکان کو ختم کر کے ازراہ تکبر اپنی عقلوں کو ہی قرآن و حدیث کے سمجھنے اور عرفان الہی حاصل کرنے کا کافی اور واقی ذریعہ قرار دے لیا ہے۔اور ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھاتے چلے جارہے ہیں۔۱۲۔اسی طرح حضرت اقدس نے تصوف کے مشکل ترین مسائل نہایت زود فہم الفاظ میں بیان فرمائے جنہیں عام لوگ بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً :۔تو بروی آن خود ، بقار این است به تو درد مخوشو ، بقا این است نه روز تین من آنکه در عشق احد محو و فناست هر چه زو آید زیرذات کبیر پاست هرچه زود ہے دور ثمین (۱۳) بلکہ ان نظموں میں جن سے یہ دونوں شتر لئے گئے ہیں۔زیادہ تر سائل تصوف کا ہی ذکر ہے۔(مزید مثالیں آگے صب ہذا پر دیکھیئے )۔۱۳۔خاکسار کے نزدیک سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دین اسلام کے ثمرات کے ثبوت کے طور پر حضرت اقدس نے اپنی ذات بابرکات کو پیش فرمایا۔کہنے کو تو سبھی اسلام کی برکات براہین احمدیہ (ہر جبار حمص ) طبع اول کے اغلاط نامہ کے مطابق پہلے مصرع میں بقا کا لفظ ہے در مصرع دوم میں تھا که تو اپنے آپ سے باہر نکل یہی بقا ہے۔اور اس الحبوب حقیقی ہیں محو ہو جا یہی تھا ہے ؟ سے جو خدائے واحد کے عشق میں محود فنا ہے۔اس سے جو کچھ سرزد ہوتا ہے۔وہ ذاتِ کبریا کی طرف سے ہی ہے ؟