درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 30 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 30

عرض گلے کو روئے خزاں رہا ہے نخواهد دید باریغ ماست اگر قسمت رسا باشد دورتمین م۲) ۱۴۔ایک اور خصوصیت جو حضرت اقدس کو شعر اسے ممتاز کرتی ہے۔یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی شاعر کا کوئی مضمون پسندا گیا۔تو پہلے تو آپ اسے قریب قریب اسی کے الفاظ میں اپنی کسی تقریر یا تحریر میں نقل کرتے ہیں۔پھر کبھی اس پر تضمین فرماتے ہیں۔یعنی اس کے ساتھ اپنے چند شعر ملا لیتے ہیں۔اور پھر بعض دفعہ اسی مفہوم کو اپنے الفاظ میں ایسے عمدہ طریق پر بیان فرماتے ہیں کہ وہ فصاحت و بلاغت میں اس پہلے شعر سے بدرجہا بڑھ جاتا ہے۔اس کی چند مثالیں آگے " اخذ" کے عنوان کے نیچے دیکھیئے ممکن ہے کوئی نادان اعتراض کرے کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس نے کسی شاعر کا مضمون چرا لیا ہے۔ایسے شخص کو اس کو چہ کی کوئی خبر نہیں کیونکہ اہل فن کے نزدیک ایسا اخذ نہ صرف جائز ہے۔بلکہ بزرگ شعراء کے لئے ضروری ہے۔چنانچہ شعر و شاعری کے ایک بلند پایہ نقاد ابن رشیق کہتے ہیں :۔اگر کسی شخص کی شعر گوئی کا تمام دارو مدارا خذ پر ہو۔تو اُسے شاعرمت سمجھو۔بلکہ وہ شخص عاجز اور کور مغز ہے۔اور اگر ایک شخص اس پہلو کو بالکل ہی چھوٹے ہوئے ہے۔اور پہلے نامی شعراء کے کلام سے کہیں کچھ بھی اخذ نہیں کرتا۔تو وہ فن شعر سے بالکل بے خبر اور جاہل ہے۔(دیکھیئے صب ہذا) سے ہر وہ پھول جو کبھی خون کا نہ نہیں دیکھے گا اگرتیری قسمت یاوری کرتے تو دیکھ ہارے باغ میں موجود ہے و