درثمین فارسی کے محاسن — Page 19
14 دلنشین بناتی ہیں۔وہ سب کلام الہی مں موجود ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس درسیح موعود علیہ السلام) فرماتے ہیں -: یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے۔کہ قرآن کریم کے ہر ایک لفظ کو حقیقت پر مل کرنا بھی بڑی غلطی ہے۔اور اللہ بشانہ کا یہ ایک کام اور اعلی درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔آئینہ کمالات اسلام خدا حاشیه در حاشیه) علم بیان کے لحاظ سے لفظ استعارہ اور لفظ حقیقت کی تعریف اور تشریح آگے زیر عنوان علم بیان (ص ہذا ( لاحظہ فرمائیے۔یہاں یہ امر خاص طور پر نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ۱۵۵ حضرت اقدس نے یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ قرآن مجید استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے بلیغ ہے۔که هر فرمایا کہ چونکہ یہ پاک کلام اعلی درجہ کا لی ہے اس لئے استعارات سے بھرا ہوا ہے۔گو یا حضرت اقدس کے نزدیک بھی فنونی بلاغت خود بخود فصیح و بلیغ کلام میں آجاتے ہیں۔یا دوسر لفظوں میں ان فنون کا استعمال دین کی تفصیل آگے آئے گی) نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔چنانچہ آپ نے ایک اور جگہ فرمایا تے زباں گھر چھ بحرے بود موجزن طلاقت نگیرد بجز علم و فن کسے کو ندارد و قوفی تمام چه طورش سیاقت بود در کلاشم د در تمین طلا) مظاہر قدرت میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں میں گوناگوں فوائد کے ساتھ ساتھ خوبصورتی بھی پیدا کی ہے۔سبزے کو لیجئے، پھولوں کو دیکھئے ، درختوں پر نظر ڈالئے زبان اگر چہ بھائیں مارتے ہوئے دریا کی طرح تیز رفتار ہو پھر بھی علم وقف کے بغیراس میں فصاحت نہیں ہوسکتی۔جوشخص دفتون باغت سے پوری واقعیت رکھتا ہو اس کام میں رانی کس طرح ممکن ہے۔: الله۔۔۔۔الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ (السجده :)