درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 18 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 18

IɅ اور قرآن کریم اس کی بہترین مثال ہے۔انسانوں میں بھی دوسرے کمالات کی طرح فصاحت و بلاغت کے مختلف مدارج ہیں۔بعض لوگ کوشش کر کے بھی فصیح وبلیغ کلام پر قادر نہیں ہوسکتے اور بعض جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مشق اور تجربہ سے یہ شرف حاصل کرلیتے ہیں۔اور بعض اشخاص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فضیلت ودیعت کی جاتی ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کے باوجود کوئی اور انسانی کلام آپ کے کلام کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں نہیں شرف حاصل ہوا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- در ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے انشاپردازی کی میں طاقت کی ہے تا معارف حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میںبھی دنیا پر ظاہر کریں اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغو طور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی۔اس کو کلام اپنی کا خادم بنا دیا جائے " نزول مسیح م) پس معلوم ہوا کہ فنون بلا تخت کا استعمال فی ذاتہ منوع بلکہ ان کا بے موقع استعمال قابل اعتراض ہے۔ورنہ کلام کو حسین ، پراثر اور مختصر بنانے کے لئے جو طریق اور فینون علم بلاغت میں رائج ہیں، وہ سب قران کریم میں موجود ہیں۔بلکہ یہ کہا زیادہ درست ہوگا کہ فصاحت و بلاغت کے قواعد زیادہ تر قرآن کریم اور احادیث رسول کریم سے ہی مرتب کئے گئے ہیں چنانچہ علم بلاغت کی کتب میں مختلف فنون کے لئے مثالیں اولاً فرمان مجید اور احادیث نبوی سے ہی پیش کی جاتی ہیں اور بعد میں ادباء اور شعراء کے کلام سے۔ہاں ایسی بیہودہ اور لغو صنعتیں جو بعض شعراء نے محض اپنی قابلیت اور بڑائی جتانے کے لئے وضع کی ہیں اور جن سے کلام کے تأثر میں کچھ بھی زیادتی نہیں ہوئی۔مثلاً با نقطہ یا بے نقطہ عبارت یا ایسی عبارت جو سیدھا الٹا پڑھتے میں یکساں ہو۔السی دور از کار صنعتوں سے کلام مجید پاک ہے لیکن جو صنعتیں کلام کو پراثر اور