درثمین فارسی کے محاسن — Page 20
جانوروں کے پروں اور رنگوں کو دیکھئے۔خود انسان کے حسن صورت پر غور کیجئے۔اسی طرح للہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی فطرت میں حسن نے حظ اٹھانے کا ملکہ رکھا وہاں یہ رجحان بھی ودلعیت فرمایا ہے کہ وہ جو چیز بھی بنائے اس میں خوبصورتی پیدا کرنے کی بھی کوشش کیے۔سامان خانہ، برتن لباس، مکان وغیرہ اگر سیدھے سادے بنائے جائیں تو ان کی افادیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی لیکن شہرشخص اپنی استطاعت کے مطابق ان تمام چیزوں کو بہتر سے بہتر رنگ میں سجاتا ہے۔لہذا کلام بھی اس عالمگیر جذبہ کے دائرہ عمل سے باہر نہیں رہ سکتا۔خصوصاً جب ایسی تزمین سے اس کا تاثر بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو چیزیں کسی اعلیٰ ضرورت کے پورا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں وہ انسانوں کے طبعی لالچ اور بخل کی وجہ سے خود ہی قبلہ مقصود بن جاتی ہیں۔بتلا غذا انسان کی صحت اور زندگی کے لئے ناگزیر ہے۔لیکن آپ دیکھتے ہیں۔کہ کئی اشخاص کے لئے یہی لذت کام و دین ہی زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔شیخ سعدی نے کیا خوب کہا ہے : خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است ؛ تو معتقد که زیستین از بهر خوردن است اسی طرح صنائع بدائع اور بلاغت کے دوسرے فنون مرتب کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ انکے ذریعہ سے کلام کو فصیح و بلیغ بنایا جائے یا فطرتی طور پر کوئی قادر الکلام شخص اپنے خیالات کو بہتر اور موثر رنگ میں ادا کرنے کے لئے جو جو طریق اختیار کرتا ہے ، اس کی نشاندہی کی جائے تا اس کے کلام کو سمجھنے میں آسانی ہو۔اور دوسرے لوگ بھی ان طریقوں کو اپنا کر اپنے کلام کو موثر بنا سکیں۔لیکن ہوا یہ کہ بہت سے انشا پردازوں اور شاعروں نے صنائع بدائع کو ہی اپنا مطمح نظر بنا لیا۔تا لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیسا اچھوتا کلام پیدا کرنے پر قادر ہیں۔خواہ اس کلام میں مفید مطلب امر ہو یا نہ ہو ہے: کھانا زندہ رہنے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے ہے۔لیکن تو سمجھتا ہے کہ زندگی محض کھانے پینے کی خاطر ملی ہے :