درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 159 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 159

۱۵۹ ایک کا حذف کرنا ضروری ہے۔لیکن اضافت استعاری ہیں یہ صورت نہیں۔اس لئے اس کی شائیں صورت نہیں۔یہیں پیش کی جائیں گی۔اب حضرت مسیح موعود کے کلام میں ان اضافتوں کا استعمال دیکھئے۔الفاظ کے بیحد مختصر ہونے کے باوجود معانی میں کیسی وضاحت، وسعت اور شدت پیدا ہو جاتی ہے اور کلام نہایت فصیح و بلیغ بن جاتا ہے۔اضافت تشبیہی کی مثالیں : (1) بارای فضل رحمان آمد بمقدم او نه با قسمت آنکه از سوئے اگر دو ویژه یعنی فضل مانند باران (بارش بلحاظ تو اتر و کثرت سے (۲) در نه باز از شورش و انکار : جیفه کذب را محور زنبانه در ثمین ماده ) یعنی کذب مانند حیفه دمر دار بلحاظ حرمت اور تعفن است (۳) بر من چراکشی تو چنین خنجر زبان : از خود نیم ز قادر ذوالمجد والبرشم در ثمین (شل) است ور ثمین صلا) ترجمہ: رحمان کے منفصل کی بانش اس کے آنے کے ساتھ آئی۔بدقسمت ہے وہ جو اسے چھوڑ کر دوسری طرف بھاگا۔داسی شعر کے صحیح معنوں کی طرف حضرت اقدس کے ایک عربی شعر سے رہنمائی ہوتی ہے۔فرمایا اے عباديكون كمبشرات وجود هم : اذا ما اتوا فالغيث يأتي ويمطر یعنی یہ وہ بند ہیں کرمون سون ہوا کی طرحان کا وجود ہوتا ہے جب آتےہیں میں اتھے ہی بار رحمت کی یہی ہے امید ہیں اور حد یہ ہے ے ترجمہ :۔ورنہ فساد اور انکار سے باز آ اور جھوٹ کی سٹڑی ہوئی لاش ہر گز نہ کھا۔کے ترجمہ :- تو مجھ پر اس طرح زبان کی چھری کیوں چلاتا ہے، ہمیں خود نہیں آیا بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔