درثمین فارسی کے محاسن — Page 160
14- یعنی زبان مانند خنجر (چھری بلحاظ زخمی کرنے کے) ہے (۳) این چشمه روان که بخلق خداد هم یک قطره زیر کمال حمد است به - د در ثمین مرده یعنی کمال مانند بحر (دریا بلحاظ وسعت، گہرائی اور فیض رسانی) سے (۵) تا نشد مشعلی زعیب پدید : پدید و از شب تایر جبل کسی نورسیده یعنی جبل مانند شب تار داند میری رات بلحاظ فقدان روشنی ) ) د در ثمین ۳۲۵) اضافت استعاری سے معانی میں اور بھی زیادہ وضاحت ، وسعت اور شدت پیدا ہو جاتی ہے اس کی کئی اغراضی ہیں۔اول یہ کہ مضاف بظا ہر مضاف الیہ کا بجز و معلوم ہوتا ہے۔لیکن دراصل وہ مضاف الیہ کے کسی خاص پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔اس کی مثالیں دیکھئے : ہے (۱) اگر باز باشد ترا گوش ہوش زگورت ندائے در آید بگوش ر در ثمین صدا ) یعنی گوش سفنے کا آلہ ہے ، اور کسی بات کو سن کر انسان ھو گا اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ اگر تیرے ہوش کے کان کھلے ہوں یعنی اگر ابھی تک تم میں کسی نصیحت کو سن کر اس کی طرف توجہ کرنے کی صلاحیت باقی ہو تو تجھے قبر سے آواز سنائی دے گی سے ے ترجمہ : معارف کا یہ چشمہ رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں۔یہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے۔کے ترجمہ : جب تک غیر سے کوئی مشکل ظاہر نہ ہوئی ، تب تک جہالت کی اندھیری رات سے کسی نے رہائی نہ پائی۔کے ترجمہ اگر تیرے ہوش کے کان کھلے ہوں تو تجھے قبر سے یہ آواز سنائی دے گی۔