درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 158 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 158

10A نہیں بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے۔کہ حضرت اقدس اخلاقی اور روحانی مطالب بیان کرنے کے لئے مختلف فنون بلاغت کو کس خوبصورتی اور مہارت سے اپنے کام میں لائے۔یہی شعر دیکھئے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی شان کا صحیح اور مکمل اور اک نہ کر سکنے کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ وہ لوگ عرفان کے نافہ ریعنی وہ عرفان جو نافہ کی طرح بہت ہی خوشبو ، فرحت اور خوشخبریاں دینے والا ہے اس) سے ہمیشہ محروم رہے ہیں۔الفاظ کی خوبصورتی سامع کی توجہ کو کس شدت سے اپنی طرف مبذول کرا رہی ہے۔اسی اضافت کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک تشبیہی اور دوسری استعماری۔۵ - اضافت تشبیہی :- وہ اضافت ہے جس میں مضاف اور مضاف الیہ میں مشابہت کا تعلق ہو۔جیسے تیز نگاہ یعنی ایسی نگاہ جو دل میں جاکر لگنے اور اسے زخمی کرنے میں تیر کی مانند ہو۔4- اضافت استعاری : وہ اضافت ہے جو مضاف کو مضاف الیہ کا حتہ یا جزو ظاہر کرے۔لیکن حقیقت میں وہ مضاف الیہ کا حصہ یا جزو نہ ہو جیسے پائے خیال متقاضی فرد دست حسرت اضافت تشبیہی اور اضافت استعاری میں فرق یہ ہے کہ) : اضافت تشبیبی میں مضاف اور مضاف الیہ کی جگہ تبدیل کر کے ان کے درمیان مانند لگایا جائے تو مطلب میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔جیسے تیز نگاہ۔نگاہ 411 مانند تیرین جائے گا۔جس کا مطلب واضح ہے۔(۲) اضافت استعماری میں مضاف اور مضاف الیہ کی جگہ بدلنے سے کچھ مطلب سمجھ میں نہیں آئے گا۔پائے خیال اور ناخن خرد کی جگہ بدلنے سے خیال مانند پا یا خرد مانند ناخن بن جائیں گے۔جو بالکل مہمل اور بے معنی میں یا رخود آموز فارسی حصہ اول ۳۹۰۰۵ یہ اضافت استعاری معطل کا استعارہ نہیں بن جاتی کیونکہ استعارہ ہیں مشتبہ اور مشبہ بہ میں سے