درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 153 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 153

تزئین کلام اعلیٰ درجہ کے شاعر تکلف سے اپنے کلام کو نائع بدائع سے آراستہ نہیں کرتے بلکہ ان کی طبع رسا کے طفیل یہ خوبیاں خود بخود ان کے کلام میں در آتی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں بھی وہ تمام محاسن شعری موجود ہیں تو ایک قادر الکلام شاعر کے کلام میں طبعا موجود ہونے چاہئیں۔بلکہ ان سے بھی بڑھ کر خوبیاں آپ کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو اہانا فرمایا تھا:۔در کلام تو چیز عیست که شعراء را درای دخله نیست تذکرہ طبع اء منها) یعنی آپ کے کلام میں ایک ایسی چیز ہے جس تک شاعروں کی رسائی نہیں۔حضرت اقدس کے کلام کے محاسن اجاگر کرنے کے لئے آئندہ صفحات میں بلاغت کے ہر فن کے متعلق آپ کے کلام سے بعض اشعار بطور نمونہ پیش کئے جائیں گے۔اور اس کے بعد یہ دکھایا جائے گا۔کہ آپ کے سادہ اشعار میں بھی وہ کشش اور تاثیر ہے جو دوسروں کے مرصع اشعار میں بھی نہیں پائی جاتی لیکن پہلے بلاغت کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا ہے۔بلاغت | مقدمہ بہشت بہشت میں مرقوم ہے :- بلاغت تو یہ ہے کہ کلام وقت اور حال کے مطابق ہو۔انسان میں گوناگوں خیالات اور جذبات پائے جاتے ہیں کی بھی غم و غصہ ہے اور کبھی مسرت و مہربانی ایک وقت بیتابی و بیقراری ہے، تو دوسرے وقت راحت و سکون کی بھی مستی و