درثمین فارسی کے محاسن — Page 152
اسے خدا وندم بنام مصطفے : کش شدی در هر مقامی نظرے دست من گیر ازره لطف و کرم : در مہتم باش یارو یا دور ہے تکیه بر زور تو دارم گرچه من با ہمچو خاکم بلکہ زاں ہم کمتر ہے ور مشین من) اسے خالق ارض و ما بر سن در رحمت کشا : دانی تو آن در مراکز دیگران پنہاں کنم ز این طیفی دل را در هر رگ و تارم در تاجو خود با هم ترا دل خوشتر از بتن کنم در سرکشی سے پاک خو جان بر کنم در بھر تو : زانسان ہے گریم کز ویک معاملے گریاں کنم خوابی بیرم کی جدا خواری بمعظم رون : خواہی بخش یا کسی را سے ترک آن داماں کنی ہے ور ثمین ) لے ترجمہ :۔اے میرے خدا مصطفے کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مرد گا رہا ہے۔اپنے لطف و کرم سے میرا ہاتھ تھام اور میرے اس اہم کام میں میرا ساتھی اور مددگار بن جا مجھے تیری ہی طاقت پر بھروسہ ہے۔اگرچہ میں خود خاک کی طرح ہوں ، بلکہ اس سے بھی گھٹیا۔کے ترجمہ :۔اے زمین وآسمان کے خالق ، مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو میرے اس درد کو جانتا ہے جو میں دوسروں سے چھپاتا ہوں۔اسے دہر تو بید لطیف ہے۔میر برگ ریشہ یں کا جا تائیں تجھے اپنے آپ میں پاؤں اور اپنا دل باغ سے بھی زیادہ خوش کروں۔اسے اچھی صفتوں والے اگر تو دمیری یہ درخواست قبول زرکر ہے۔تو میں تیرے فراق میں جان دیدوں گا۔اور اتنا دوں گا کہ اسکی ایک دنیا کو رلا دوں گا۔خواہ تو سختی سے مجھے اپنے آپ سے جدا کر دے خواہ مہربانی کر کے کھڑا دکھائے، چاہے مار ڈال اور چاہے چھوڑے میں کس طرح میرا دامن چھوڑ سکتا ہوں ؟