درثمین فارسی کے محاسن — Page 144
۱۴۴ دیده چون بر دلبر مست اوفتد به هر چه غیر اوست از دست او فتد غیر گودر بر بود دور است دور : یار دور افتاده مردم در حضوره د در ثمین ۱۳ ۱۳۵۰ ھ - عاشقوں کے ظاہری حالات سے دھوک کا نہیں کھانا چاہیئے سے کاروبار عاشقان کار جدا است ؛ بر ترانه منکر و قیاسات شماست قوم عیارست دل در دلبری : چشم ظاہر ہیں یہ دیوار و درے جان خروشان از پٹے مہ پیکر : بر زبان صد قصه یا از دیگرے فانیان را مانعی از یار نیست به بچه وزن بر سرشان بار نیست باد و صد زنجیر هردم پیش یار : خار با او گل گل اندر به خار تو بیک فارسے برآری صد فغان به عاشقان خندان بپائے جانفشان د در ثمین (۱۳۵۰) ے ترجمہ : مست دلبر پہ جب نظر پڑتی ہے، تو جو دوست کے سوا ہو وہ ہاتھ سے گر پڑتا ہے۔غیر اگر پہلومیں بھی ہوتو پھر بھی بہت دُور ہے اور دور گیا ہوا دوست ہر وقت اپنے پاس ہی معلوم ہوتا ہے۔کے ترجمہ : عاشقوں کا کاروبار ایک اور ہی قسم کاکارڈ بار ہے ، جو تمہاری سوچ اور خیالات سے بالا ہے۔یہ بڑی چالاک قوم ہے، دل توکسی دیرمیں لگا ہوتا ہے۔اور ظاہری آنکھیں کسی اور ہی در و دیوار میں کی ہوتی ہیں۔انکی جان تو ایک حسین کیلئے تڑپتی ہے اور زبان پر دوسروں کے سینکڑوں قصے ہوتے ہیں۔فانی فی الدلوگوں کے لئے اس محبوب سے کوئی روک نہیں ہوتی۔ان کے سرپر یوں بے وجہ نہیں ہوتے، وہ سینکڑوں بندھنوں کے باوجود مردم دوست حضورمیں رہتے ہیں۔کسی نا ہوتے ہوئے ان کےلئے کانٹے پھول ہوتے ہیں۔اور اس کی جدائی میں پھول کانٹے۔تو ایک کانٹے سے سینکڑوں فریادیں کرنے لگتا ہے۔لیکن عاشق لوگ جان قربان کرتے وقت بھی ہنستے رہتے ہیں۔